حدیث نمبر: 17484
١٧٤٨٤ - حدثنا ابن علية (قال) (١): (سئل) (٢) يونس عن الرجل يشتري الأمة فيستبرئها، يصيب منها القبلة والمباشرة؟ (قال) (٣): ابن سيرين يكره أن يصيب منها ما يحرم عليه من غيرها حتى يستبرئها.
مولانا محمد اویس سرور

یونس سے سوال کیا گیا کہ استبراء کے دوران مالک باندی کی شرمگاہ کے علاوہ کہیں سے تلذذ حاصل کرسکتا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن سیرین استبراء کے دوران ہر طرح کے تلذذ کو مکروہ خیال فرماتے تھے جبکہ حسن بوسہ لینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، ك]: (عن)، وسقط من: [ز]، وفي [هـ]: (عمن).
(٢) في [س]: زيادة (عن)، وفي [س، هـ]: (سأل).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (فإن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17484
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17484، ترقيم محمد عوامة 16917)