١٧٤٣٢ - حدثنا ابن نمير عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي (سلمة) (١) بن عبد الرحمن وأبي أمامة بن سهل (عنهما) (٢) جميعًا عن أبي سعيد الخدري قال: لما أصابنا سبي بني المصطلق استمتعنا (من النساء) (٣) وعزلنا عنهن (قال) (٤) (٥): (وقفت) (٦) على جارية في سوق بني (قينقاع) (٧) فمر بي رجل من يهود فقال: ما هذه الجارية يا أبا (سعيد) (٨)! قلت: جارية لي أبيعها، قال: هل كنت تصيبها؟ قال: قلت: نعم! قال: فلعلك تبيعها وفي بطنها منك (سخلة) (٩)؟ (قال) (١٠) قلت: كنت أعزل عنها، قال: تلك الوؤدة الصغرى، قال: فجئت رسول اللَّه ﷺ فذكرت ذلك له، فقال: "كذبت يهود، كذبت يهود" (١١).حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو مصطلق کی عورتیں قیدی بن کر ہمارے ہاتھ لگیں۔ ہم ان سے جماع کرتے تھے اور عزل کرتے تھے۔ پھر ایک دن میں ایک باندی کے ساتھ بنو قینقاع کے بازار میں تھا کہ ایک یہودی میرے پاس سے گذرا اور بولا اے ابو سعید یہ باندی کیسی ! میں نے کہا میری باندی ہے اور میں اسے بیچنا چاہتا ہوں۔ اس نے پوچھا کہ کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ تم اسے بیچنا چاہتے ہو حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اس کے پیٹ میں تمہارا نطفہ موجود ہو۔ میں نے کہا کہ میں اس سے عز ل کیا کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ زندہ درگور کرنے کی ایک شکل ہے۔ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سار ا واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہود نے جھوٹ بولا یہود نے جھوٹ بولا۔