مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
المرأة تملك من زوجها (شقصا) باب: اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے؟
١٧٢٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبد السلام عن (عطاء بن السائب) (٢) ⦗٢٩٨⦘ أن امرأة ملكت من زوجها (قيمة) (٣) (سبع) (٤) (الدرهم) (٥) (فسئل) (٦) ميسرة عن ذلك فقال: حرمت عليه، ولا أدري من أين تحل له؟.حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت اپنے خاوند کی سات درہم کے بقدر مالک بن گئی۔ اس بارے میں حضرت میسرہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ عورت اپنے خاوند کے لئے حرام ہوگئی۔ اور میں نہیں جانتا کہ وہ اس کے لئے کیسے حلال ہوگی ؟ میں حضرت شعبی سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ابوبکر بن ابی موسیٰ سے ملو اور ان سے سوال کرو۔ وہ ان دنوں وہاں قاضی تھے۔ میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب تم کسی چیز کی طاقت نہیں رکھتے تو وہ کام کرلو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ میں حضرت شعبی کے پاس آیا اور ان سے سارا واقعہ ذکر کیا تو وہ مسکرا دیئے۔ اور فرمایا کہ تم عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کے پاس جاؤ اور ان سے سوال کرو۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ عورت اپنے خاوند کے لئے حرام ہوگئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیسے حلال ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اسے ہبہ کردے، یا آزاد کردے یا بیچ دے۔ میں واپس حضرت شعبی کے پاس گیا میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے سوال کرو کہ وہ عدت گزارے گی یا نہیں ؟ میں ان کے پاس واپس آیا تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں وہ عدت نہیں گزارے گی۔ میں حضرت شعبی کے پاس واپس آیا اور انہیں اطلاع دی تو انہوں نے فرمایا کہ فتوی کو محفوظ کرلو۔ میں ابن معقل کے پاس آیا۔ راوی عبدالسلام فرماتے ہیں کہ ان کا قول مجھے یاد نہیں رہا البتہ عمار بن رزیق نے عطاء بن سائب کی روایت سے ابن معقل کا قول نقل کیا ہے کہ وہ دونوں نکاح کا اعادہ کریں گے۔