مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (يكون) له المرأة (فتقول): اقسم لي باب: اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟
١٧٢٧٧ - حدثنا جرير عن منصور عن (١) أبي رزين في قوله تعالى: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [الأحزاب: ٥١]، وكان ممن آوى عائشة وأم سلمة وزينب وحفصة (٢) فكان (قسمتهن) (٣) من نفسه وماله (فيهن) (٤) سواء، وكان ممن أرجى سودة وجويرية وأم حبيبة وميمونة وصفية فكان يقسم لهن ما شاء، وكان أراد أن يفارقهن فقلن له: اقسم لنا من نفسك ما شئت ودعنا نكون على حالنا (٥).حضرت ابو رزین قرآن مجید کی آیت : ” ان میں سے آپ جسے چاہیں چھوڑ دیں اور جسے چاہے ساتھ رکھ لیں “ (الاحزاب : ٥١) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بعد حضور ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو رکھنا چاہتے۔ ان کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے جسم میں برابر ہوتا۔ جنھیں آپ چھوڑنا چاہتے تھے وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا ، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ ان کے لیے جو چاہتے تقسیم فرماتے ۔ جب آپ نے انہیں چھوڑنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپ ہمارے لئے جو چاہیں حصہ مقرر فرما دیں اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑدیں۔