مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (يكون) له المرأة (فتقول): اقسم لي باب: اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17274
١٧٢٧٤ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن خالد بن عرعرة عن علي قال: أتاه رجل يستفتيه في: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ فقال: هي المرأة تكون عند الرجل (فتنبو) (١) عيناه من (دمامتها) (٢) أو فقرها أو (سوء) (٣) خلقها فتكره فراقه فإن وضعت له من حقها شيئًا حلت له وإن جعلت من أيامها (شيئًا) (٤) فلا حرج (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن عرعرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جس کا خاوند اس کی بداخلاقی، تنگدستی اور نامناسب رویہ سے تنگ ہو اور وہ اسے چھوڑنا چاہے لیکن بیوی اس سے الگ ہونے پر راضی نہ ہو۔ اگر عورت اپنے مہر میں سے کوئی مقدار اس کے لئے چھوڑ دے تو مرد کے لئے حلال ہے اور اگر عورت اپنے حق سے دستبردار ہوجائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ص]: (فتسوء)، وفي [هـ]: (فتسوأ).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (ذمامها)، وفي [ب، ز]: (دمامها).
(٣) في [أ، ط]: (هو).
(٤) سقط من: [جـ].