مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يتزوج المرأة ويشترط لها في دارها باب: ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کے لئے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی تو جن حضرات کے نزدیک اس شرط کو پورا کرنا ضروری ہے
حدیث نمبر: 17252
١٧٢٥٢ - حدثنا ابن علية عن أبي حيان قال: (نا) (١) أبو الزناد أن امرأة خاصمت زوجها إلى عمر بن عبد العزيز قد شرط لها دارها حين تزوجها فأراد أن (٢) يخرجها منها فقضى عمر أن لها (دارها) (٣) لا يخرجها منها وقال: والذي نفس عمر بيده لو استحللت فرجها بزنة أحد ذهبًا (لأخذتك) (٤) به لها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زناد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس ایک مقدمہ لے کر آئی کہ اس کے خاوند نے نکاح کے وقت اس کو اسی کے گھر میں ٹھہرانے کی شرط لگائی تھی۔ اب وہ اس کو اس گھر سے نکالنا چاہتا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ عور ت کا حق ہے کہ وہ اپنے گھر میں رہے خاوند اسے اس سے نکال نہیں سکتا۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ اگر تو نے احد پہاڑ کے برابر سونے کے عوض بھی عورت کی شرمگاہ کو حلال کیا ہوتا تو وہ بھی میں تجھ سے لے کر اسے دیتا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (حدثنا).
(٢) في [ز]: زيادة (امرأة).
(٣) في [ف]: (دار).
(٤) في [أ، ب، س]: (لأخذنا)، وفي [ط]: (لأخذ).