مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يتزوج المرأة (فتجيء المرأة) فتقول: قد أرضعتهما باب: شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17226
١٧٢٢٦ - حدثنا حفص عن (حلام) (١) بن صالح عن (بكير) (٢) بن (فائد) (٣) أن امرأة جاءت إلى رجل تزوج امرأة فزعمت أنها قد أرضعتهما فأتى عليا فسأله فقال: هي امرأتك ليس أحد يحرمها عليك وإن تنزهت فهو أفضل (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکیر بن فائد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے شادی کی تو ایک عورت نے آکر دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ وہ آدمی مسئلہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ تیری بیوی ہے اسے کوئی تجھ پر حرام نہیں کرسکتا۔ البتہ اگر تو اس سے علیحدہ ہوجائے تو بہتر ہے۔ اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، هـ]: (حلاس).
(٢) في [هـ، س، ط، هـ]: (بكر).
(٣) في [أ، جـ، س، ط، هـ]: (قائد).
(٤) مجهول؛ لجهالة بكير.