مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يرى امرأته تفجر أو يبلغه ذلك، (يطؤها) أم لا؟ باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کوبدکاری کرتے دیکھے یاسنے تو کیااس سے جماع کرسکتاہے؟
حدیث نمبر: 17139
١٧١٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أنا حماد بن سلمة (١) عن عبد الكريم ⦗٢٦٢⦘ (عن عبد اللَّه) (٢) بن (عبيد) (٣) (بن) (٤) عمير عن ابن عباس قال: جاء (رجل) (٥) إلى (النبي) (٦) ﷺ فقال: إن عندي امرأة أحب الناس إلي وإنها لا تمنع يد لامس قال: "طلقها" قال: لا أصبر عنها قال: "فاستمتع بها" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میری ایک بیوی ہے جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے، وہ درست کردار کی حامل نہیں۔ اس کے بارے میں میرے لئے کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو طلاق دے دو ۔ اس نے کہا میں اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس سے فائدہ اٹھاتے رہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (عن عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (عبيدة).
(٤) في [أ، هـ، س، ز]: (عن).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [س]: (رسول اللَّه).