مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في (الجارية) النصرانية (و) اليهودية تكون لرجل يطؤها أم لا؟ باب: نصرانیہ اور یہودیہ باندی سے جماع کرنا جائز ہے یانہیں؟
حدیث نمبر: 17109
١٧١٠٩ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال] (١): إذا أصاب الرجل الجارية المشركة فليقررها بشهادة (أن) (٢) لا إله إلا اللَّه، فإن أبت ولم تقر لم يمنعه ذلك أن يقع عليها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب آدمی کو کوئی مشرکہ باندی حاصل ہوتولا الہ الا اللہ کی گواہی دینے کی دعوت دے۔ اگر وہ انکار بھی کردے تب بھی وہ اس سے جماع کرسکتا ہے۔
حواشی
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [س، هـ، ط].
(٢) في [جـ]: زائدة (أن).