مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يطأ الجارية المجوسية، من كرهه باب: جن حضرات کے نزدیک مجوسیہ باندی سے نکاح کرنا ممنوع ہے
حدیث نمبر: 17101
١٧١٠١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا (سبيت) (١) ⦗٢٥٣⦘ المجوسية وعبدة الأوثان عرض عليهن الإسلام فإن (أسلمن) (٢) وطئن واستخدمن وأن أبين أن يسلمن استخدمن ولم (يوطأن) (٣).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب مجوسی اور بت پرست عورتیں قیدی بنائی جائیں تو انہیں اسلام کی دعوت دی جائے گی اور اسلام قبول کرنے پر اصرار کیا جائے گا۔ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو ان سے وطی کرنا بھی درست اور خدمت لینا بھی درست۔ اگر اسلام قبول نہ کریں تو ان سے وطی تو نہیں کی جائے گی البتہ خدمت لی جاسکتی ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (شئت).
(٢) في [س]: (أسلمه).
(٣) في [س]: (وطئه)، وفي [ز]: (وطئن).