حدیث نمبر: 17052
١٧٠٥٢ - حدثنا ابن (علية) (١) عن ابن جريج عن (٢) أبي بكر (بن) (٣) حفص ابن (عمر) (٤) بن سعد أن مسلم بن (عويمر) (٥) بن الأجدع من بني بكر بن كنانة أخبره أن أباه أنكحه امرأة بالطائف، قال ة فلم أجامعها حتى توفي (عمي) (٦) عن أمها وأمها ذات مال كثير، فقال لي: هل لك في أمها؟ فقلت: وددت وكيف وقد نكحت ابنتها، قال: فسألت [ابن عباس فقال: انكحها (٧).
مولانا محمد اویس سرور

بنو بکر بن کنانہ کے حضرت مسلم بن عویمر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے طائف میں ایک عورت سے میری شادی کی۔ ابھی میں نے اس سے جماع نہ کیا تھا کہ اس کی ماں کے خاوند کا انتقال ہوگیا۔ اس کی ماں ایک مالدار عورت تھیں۔ میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اگر تم اس کی ماں سے شادی کرلو تو بہت رہے۔ میں نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں نے اس کی بیٹی سے نکاح کرلیا ہے۔ پھر اس بارے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اس سے نکاح کرلو۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نکاح نہ کرو۔ پھر ابو عویمر نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط لکھا جس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے درج کی اور اس بارے میں حضرت معاویہ کی رائے معلوم کی۔ حضرت معاویہ نے انہیں خط میں لکھا کہ جو چیز اللہ نے حلال کی ہے میں اسے حرام نہیں کرتا اور جو حرام کی ہے میں اسے حلال نہیں کرتا۔ آپ کے پاس اور بھی بہت سی عورتیں ہیں۔ پھر انہوں نے نہ مجھے اس سے منع کیا اور نہ اجازت دی۔ پھر میرے والد نے اس خیال کو چھوڑ دیا اور ہم نے اس سے نکاح نہ کیا۔

حواشی
(١) في [س]: (عنينة).
(٢) في [أ، ب، س، هـ]: زيادة (ابن).
(٣) في [أ، ب]: (عن).
(٤) في [أ، ب]: (عمير).
(٥) في [س]: (عوير).
(٦) في [س، هـ]: (عمر)، وانظر: الدر المنثور ٢/ ٤٧٤، وتفسير ابن كثير ١/ ٤٧١، ومصنف عبد الرزاق (١٠٨١٩)، والمحلى ٩/ ٥٢٨.
(٧) مجهول؛ لجهالة مسلم بن عويمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17052
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17052، ترقيم محمد عوامة 16524)