مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يكون عنده الأختان مملوكتان فيطأهما جميعا باب: اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 17044
١٧٠٤٤ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل له أمتان أختان ⦗٢٤١⦘ فغشي إحداهما ثم أمسك (عنها) (١) هل له أن يغشى الأخرى، قال: كان يعجبه أن لا يغشاها حتى (تخرج) (٢) عنه هذه التي غشي من (ملكه) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں، ایک سے جماع کیا ہو تو کیا دوسری سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں جب تک صحبت شدہ کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے اس وقت تک جائز نہیں۔
حواشی
(١) في [أ]: (عنه).
(٢) في [أ، ب]: (يخرج).
(٣) في [ك]: (مكة).