مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يكون عنده الأختان مملوكتان فيطأهما جميعا باب: اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے؟
١٧٠٣٩ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع قال: سألت ابن الحنفية عن رجل عنده (أختان) (١) أمتان أيطأهما؟ فقال: أحلتهما آية وحرمتهما آية.حضرت عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن حنفیہ سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے انہیں حلال اور دوسری نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر میں حضرت سعید بن مسیب کے پاس آیا تو انہوں نے بھی محمد بن حنفیہ والی بات کہی۔ پھر میں نے حضرت ابن منبہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کردہ شریعت کے مطابق دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے والا ملعون ہے۔ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ دونوں آزادہوں یاباندیاں۔ عبد العزیز کہتے ہیں کہ میں نے جاکر ابن منبہ کی بات سعید بن مسیب کو بتائی تو انہوں نے اللہ کی تکبیر بیان کی۔