مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يكون عنده الأختان مملوكتان فيطأهما جميعا باب: اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 17038
١٧٠٣٨ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن ميمون عن ابن عمر أنه سئل عن رجل له أمتان أختان وقع على (إحداهما) (١) أيقع على الأخرى؟ قال: فقال ابن عمر: لا يقع على الأخرى ما دامت التي وقع عليها في ملكه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کیا دو مملوک بہنوں سے جماع کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب تک جماع شدہ باندی اس کی ملک میں ہے اس کی بہن سے جماع نہیں کرسکتا۔
حواشی
(١) في [س، ط، هـ]: (أحدهما).
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس.