مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يكون عنده الأختان مملوكتان فيطأهما جميعا باب: اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 17033
١٧٠٣٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس ووكيع عن شعبة عن أبي عون عن أبي صالح الحنفي أن ابن الكواء سأل عليًا عن الجمع بين الأختين فقال: (حرمتهما آية ⦗٢٣٩⦘ وأحلتهما) (١) أخرى ولست (أفعله) (٢) أنا ولا أهلي (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن کو اء نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آدمی دو بہنوں کو جمع کرسکتا ہے۔ ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے اسے حلال اور دوسری نے حرام کیا ہے۔ البتہ میں اور میرے اہل ایسا نہ کریں گے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (أحلهما آيه وحرمهما).
(٢) في [أ، ب، جـ، ك]: (أفعله)، وفي [س، ط، هـ]: (أفعل).