مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يملك عقدة المرأة (أتحل) لأبيه إذا لم يدخل بها؟ باب: اگر ایک آدمی کسی عورت سے نکاح کرے لیکن اس سے ازدواجی ملاقات کی نوبت نہ آئے تو کیا اس آدمی کے باپ کے لئے اس عورت کا نکاح کرنا جائز ہوگا
حدیث نمبر: 16991
١٦٩٩١ - حدثنا أبو داود عن أبي حرة عن الحسن في (رجل) (١) تزوج امرأة فطلقها قبل أن يدخل بها، (أيتزوجها) (٢) أبوه (فكرهه) (٣) وقال: قال اللَّه (تعالى) (٤): ﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ﴾ [النساء: ٢٣].مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی نے کسی عورت سے شادی کی اور اس سے ازدواجی ملاقات سے پہلے اسے طلاق دے دی تو کیا اس آدمی کا باپ اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے ؟ انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا اور قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی { وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِکُمْ }
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (الرجل).
(٢) في [هـ]: (أيتزوج).
(٣) في [س، هـ]: (فكره).
(٤) في [جـ، ز، ك]: ساقطة.