مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في نساء أهل الكتاب إذا كانوا حربا للمسلمين باب: مسلمانوں کے خلاف میدان کارزار میں سرگرم اہل کتاب کی خواتین سے نکاح جائز ہے یانہیں؟
حدیث نمبر: 16953
١٦٩٥٣ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج (قال) (٢): أخبرني أبو بكر بن عبد اللَّه عن محمد بن عمرو (العتواري) (٣) ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اسلاف نے اہل کتاب کی عورت کے بارے میں فرمایا ہے کہ اگر وہ ارض حرب سے نکلے تو ارض عرب میں امان کے ساتھ داخل ہوگی۔ اگر وہ ارض عرب میں سکون ظاہر کرے تو مسلمان کے لئے اس سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر وہ صرف پیغام نکاح کی صورت میں سکون ظاہر کرے تو اس سے نکاح نہیں کیا جائے گا۔
حواشی
(١) في [ب، س، ط، هـ]: (بكير).
(٢) في [هـ]: (قالا).
(٣) في [س، هـ]: (الفزاري)، وفي [ط]: (القواري).