حدیث نمبر: 16935
١٦٩٣٥ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن الصلت بن (بهرام) (١) عن شقيق قال: تزوج حذيفة يهودية فكتب إليه عمر أن خلّ سبيلها، فكتب إليه (٢): إن كانت حرامًا خليت سبيلها، فكتب إليه: إني لا أزعم أنها حرام ولكني أخاف أن يعاطوا (المومسات) (٣) منهن (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ سے شادی کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک خط لکھا جس میں حکم دیا کہ اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا کہ اگر یہ حرام ہے تو میں اس کا راستہ چھوڑ دیتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ حرام تو نہیں کہتا البتہ مجھے ڈر ہے کہ اس سے لوگ فاحشہ اور شریر یہودی عورتوں کی طرف جانے لگیں گے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (مهرام).
(٢) زيادة في [أ، ب]: (حذيفة).
(٣) في [أ، ب، س، ز، ط، ك، هـ]: (المؤمنات)، وانظر: تفسير ابن جرير ٢/ ٣٧٨، وأحكام القرآن للجصاص ٣/ ٣٢٣، وسنن البيهقي ٧/ ١٧٢، وسنن سعيد بن منصور ٦/ ٧١١، وكذلك: الدر النثور ١/ ٦١٥، والمحرر الوجيز ١/ ٢٩٦، وتفسير ابن كثير ١/ ٢٥٨، وتفسير القرطبي ٣/ ٦٨، وتلخيص الحبير ٣/ ١٧٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16935
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16935، ترقيم محمد عوامة 16417)