مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل تكون عنده الأمة فيشتري بعضها، يطأها أم لا؟ باب: ایک آدمی کے نکاح میں باندی تھی، اس نے اس کا کچھ حصہ خرید لیا اب وہ اس سے وطی کرسکتا ہے یانہیں؟
حدیث نمبر: 16916
١٦٩١٦ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في (رجل) (١) تزوج أمة بين رجلين فاشترى نصيب أحدهما قال: يكف عنها حتى (يشتري) (٢) نصيب الآخر.مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے ایسی باندی سے نکاح کیا جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک تھی، پھر اس نے ان میں سے ایک کا حصہ خرید لیا تو وہ اس وقت تک اس سے رکا رہے جب تک دوسراحصہ بھی نہ خرید لے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (الرجل).
(٢) في [ط]: (يشتر).