مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
الرجل (تكون) تحته الأمة فيطلقها تطليقتين ثم يشتريها باب: اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے دو طلاقیں دیدے پھر خرید لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 16899
١٦٨٩٩ - حدثنا ابن إدريس عن (مالك) (١) عن الزهري أن أبا عبد الرحمن سأل زيد بن ثابت أن مملوكة كانت تحت رجل فطلقها (فابتها) (٢) ثم اشتراها، قال: لا تحل له إلا من حيث حرمت عليه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبدالرحمن نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی باندی کسی شخص کے نکاح میں تھی، اس نے اسے ایک طلاق دی، پھر وہ بائنہ ہوگئی اور آدمی نے اسے خرید لیا، اب اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حواشی
(١) في [س]: (عبد الملك).
(٢) في [هـ]: (فبتها).
(٣) منقطع؛ الزهري لم يدرك زيد بن ثابت.