مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
الرجل يتزوج الأمة ثم يشتريها باب: اگرکوئی شخص کسی باندی سے نکاح کرے پھر اسے خرید لے توکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 16888
١٦٨٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو قال: سئل جابر بن زيد عن رجل كانت تحته (أمة) (١) فطلقها (تطليقة) (٢) ثم أعتق العبد فاشترى امرأته، (ما منزلها) (٣)؟ قال: إذا اشتراها فهي بمنزلة السرية، (فقد) (٤) أفتى بذلك عكرمة والحسن.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر و سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو، وہ اس کو ایک طلاق دے دے۔ پھر غلام کو آزاد کردیا گیا اور اس نے اپنی بیوی کو خرید لیا تو اس کی بیوی کا کیا درجہ ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب اس کو خریدلیا تو وہ باندی کے مرتبے میں ہوگی۔ حضرت عکرمہ اور حضرت حسن بن ابی الحسن نے بھی یہی فتویٰ دیا۔
حواشی
(١) في [ط، س، ب]: (أمة).
(٢) في [ك]: (تطيقه).
(٣) في [أ، ب، ط]: (منزلتها).
(٤) في [هـ]: (وقد).