حدیث نمبر: 16754
١٦٧٥٤ - حدثنا (زيد) (١) بن حباب عن ثابت بن قيس الغفاري قال: كتبت إلى عمر بن عبد العزيز في جارية من جهينة: زوجها وليها رجلًا من قيس، وزوجها (أخوها) (٢) رجلًا من جهينة، فكتب عمر بن عبد العزيز: أن أدخل عليها شهودًا عدولًا (ثم) (٣) خيرها، فأيهما اختارت فهو زوجها.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثابت بن قیس غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے نام خط لکھا کہ جہینہ قبیلے کی ایک لڑکی کا نکاح اس کے ولی نے قبیلہ قیس کے ایک آدمی سے کرادیا، جبکہ اس کے بھائی نے اس کا نکاح جہینہ قبیلے کے ایک آدمی سے کرایا ہے، اب وہ کس کی بیوی ہوگی ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ اس کے سامنے عادل گواہ لاؤ پھر اسے اختیار دو ، وہ جس کو اختیار کرے وہی اس کا شوہر ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (يزيد).
(٢) في [س، ط، هـ]: (الآخر).
(٣) في [جـ، ز، ك]: (ثم)، وفي [أ، ب، هـ]: (و).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16754
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16754، ترقيم محمد عوامة 16249)