حدیث نمبر: 16706
١٦٧٠٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: نا يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد أن عائشة أنكحت حفصة ابنة عبد الرحمن بن أبي بكر المنذر بن الزبير، وعبد الرحمن غائب فلما قدم عبد الرحمن غضب وقال: (أي عباد اللَّه) (١) (أمثلي) (٢) (يفتات) (٣) عليه في بناته؟ فغضبت عائشة وقالت: أترغب عن المنذر؟ (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر کی شادی منذر بن زبیر سے کرادی۔ اس وقت ان کے والد عبدالرحمن غائب تھے۔ جب حضرت عبد الرحمن واپس آئے تو بہت غصے ہوئے اور فرمایا کہ اے اللہ کے بندو ! کیا میرے جیسے شخص اس قابل ہیں کہ ان کی بیٹیوں کے بارے میں اس کی مرضی کے بغیر فیصلہ کیا جائے ؟ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا غصہ میں آئیں اور فرمایا کہ کیا منذر جیسے لوگوں سے اعراض کیا جاسکتا ہے ؟

حواشی
(١) في [أ، ب]: (أبو عباد).
(٢) في [س]: (مثلي).
(٣) في [جـ، ز]: (يغتاب).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16706
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16706، ترقيم محمد عوامة 16204)