مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
من أجازه بغير ولي ولم يفرق باب: جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیںکرائی جائے گی
حدیث نمبر: 16703
١٦٧٠٣ - حدثنا سلام وجرير عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال جاءت امرأة (١) إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه! إن عم ولدي خطبني فرده أبي وزوجني وأنا كارهة، قال: فدعا أباها، فسأله عن ذلك فقال: إني أنكحتها ولم آلوها خيرًا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا نكاح (لك) (٢)، اذهبي فانكحي من شئت" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے چچا زاد بھائی نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن میرے والد نے اس رشتے کو رد کردیا اور میری شادی ایسی جگہ کرادی جہاں مجھے پسند نہیں۔ حضور ﷺ نے اس کے والد کو بلایا اور اس سے اس بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے اس کا نکاح کرایا ہے اور اس کے لئے خیر کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی پاک ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تیرا نکاح نہیں ہوا، جاؤ اور جس سے چاہو نکاح کرلو۔
حواشی
(١) في [أ]: زيادة (زيد).
(٢) سقط من: [ط، س، هـ].