مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في المحرم يكون به الجرح في جسده باب: محرم کے جسم میں زخم ہو (اور وہ اس پر خوشبو والی دوا لگا لے)
حدیث نمبر: 16613
١٦٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن حجاج قال: كان الحكم وأصحابنا يقولون في المحرم يكون به القروح في جسده ورأسه (فيداويها) (١) بالطيب؟ قالوا: فيه (كفارتان) (٢)، كفارة في رأسه، وكفارة في جسده.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور ہمارے اصحاب فرماتے ہیں کہ محرم کے جسم اور سر میں اگر زخم ہو اور وہ ان پر خوشبو دار دوا لگا لے تو اس پر دو کفارے ہیں، ایک کفارہ سر میں دوا لگانے کی وجہ سے لازم ہے اور ایک کفارہ جسم کی دوا کی وجہ سے۔
حواشی
(١) في [س]: (فبدأ بها).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ز، هـ]: (كفارتين).