مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في فسخ الحج أفعله النبي ﷺ باب: حج کو فسخ کرنا، کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے؟
١٦٥٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: قال ابن الزبير: افردوا الحج (ودعوا) (١) قول (أعماكم) (٢) هذا، فبلغ ذلك ابن عباس فقال: إن الذي أعمى اللَّه قلبه وعينيه لأنت، ألا تسأل أمك فسألها، فقالت: قدمنا ⦗١٢٤⦘ مع النبي ﷺ حجاجًا فأمرنا فأحللنا الحلال كله، حتى (تسطّعت) (٣) المجامر بين (الرجال) (٤) والنساء (٥).حضرت ابن زبیر نے ارشاد فرمایا : صرف حج کیا کرو، اور اپنے عمال کے قول کو چھوڑدو، یہ بات جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے وہ شخص جس کے دل اور آنکھوں کو اللہ تعالیٰ نے اندھا کردیا ہے، کیا تو نے اپنی والدہ سے دریافت نہیں کیا ؟ پس انہوں نے والدہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، پس ہم سب لوگ حلال ہوگئے ، یہاں تک کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان آگ کا دھواں بلند ہوگیا۔