مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان إذا رمى الجمرة رجع إلى ثقله بمنى باب: جو حضرات جمرات کی رمی کر کے واپس اپنے سامان کے پاس منیٰ آ جائے ہیں
حدیث نمبر: 16335
١٦٣٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط عن أبي (بكر) (١) الهذلي قال: قلت للزهري: هل للرجل أن يرمي جمرة العقبة ثم يرجع إلى منزله ثم (يسير) (٢) إلى مكة؟ فقال: ما كانوا يرجعون إلى منازلهم إذا رموا الجمرة، وإن رجع رجل إلى منزله لمرفق أو لضيعة أو حاجة، إني لأرجو أن لا يكون به بأس إن شاء اللَّه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر الھذلی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے دریافت کیا، کیا آدمی جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد واپس اپنی جگہ آسکتا ہے پھر وہ مکہ مکرمہ چلا جائے ؟ آپ نے فرمایا کہ صحابہ کرام رمی کے بعد واپس نہ آیا کرتے تھے، لیکن اگر کوئی شخص ضرورت یا سامان کی وجہ سے واپس آئے تو امید ہے اس پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو۔
حواشی
(١) في [ز]: (بكير).
(٢) في [هـ]: (يصير).