مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
(من رخص) في استقبال القبلة بالخلاء باب: جن حضرات کے نزدیک رفع حاجت کے دوران قبلہ کی طرف رخ کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1627
١٦٢٧ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن (خالد الحذاء عن) (١) (خالد بن أبي الصلت) (٢) عن عراك بن مالك عن عائشة قالت: ذكر عند رسول اللَّه ﷺ أن قومًا يكرهون أن يستقبلوا بفروجهم القبلة (قالت) (٣): قال رسول اللَّه ﷺ: "استقبلوا (بمقعدتي) (٤) إلى القبلة" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا کہ کچھ لوگ قبلہ کی طرف رخ کر کے رفع حاجت کو ناجائز سمجھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے بیت الخلاء کا رخ قبلے کی طرف کردو۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ، د، هـ].
(٢) في حاشية [خ]: (عامل عمر بن عبد العزيز).
(٣) في [أ، جـ، د، ك]: (قال).
(٤) في [أ، خ، ك]: (بمقعدي)، وفي [جـ، د، هـ]: (بمقاعدكم).
(٥) منقطع؛ عراك لا يروي عن عائشة، وانظر [١٦٢٦].