مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في قوله (تعالى): ﴿فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه﴾ باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 16215
١٦٢١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن (الحكم) (١) عن مقسم عن ابن عباس قال: ﴿فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ قال: في تعجيله، قال: ﴿وَمَنْ تَأَخَّرَ﴾ قال: في تأخيره (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ پاک کے ارشاد { فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کے جلدی کرنے میں (گناہ گار نہیں ہیں) ، اور وَ مَنْ تَاَخَّرَ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی تاخیر کرنے میں (گناہ گار نہیں ہیں) ۔
حواشی
(١) في [أ]: (الحكيم).