حدیث نمبر: 16175
١٦١٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن (زيد) (١) عن الصلت بن (راشد) (٢) قال: سألت طاوسًا عن رجل تمتع فلم يصم ولم يذبح ⦗٥٤⦘ حتى مضت الأيام قال: فقال: يذبح، قلت: لا يجد، قال: يبيع ثوبه، قلت: لا يجد، قال: فليستسلف من أصحابه، قلت: لا يعطونه، قال: كذبت.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صلت ابن رشد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے حج تمتع کیا اس نے روزے بھی نہیں رکھے اور قربانی بھی نہیں کی یہاں تک کہ دن گزر گئے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ قربانی کرے، میں نے عرض کیا کہ قربانی اس کے پاس نہیں ہے، آپ نے فرمایا کہ کپڑے فروخت کر کے خرید لے، میں نے کہا کہ اس کے پاس کپڑے بھی نہیں ہیں، آپ نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں سے ادھار طلب کرلے، میں نے عرض کیا کہ وہ دیتے نہیں ہیں، آپ نے فرمایا کہ تو نے جھوٹ بولا۔

حواشی
(١) في [ط]: (يزيد).
(٢) في [أ، جـ، س، ز، ط، هـ]: (أسد)، وانظر: التاريخ الكبير ٤/ ٣٠١، والثقات ٦/ ٤٧١، وتاريخ الإسلام ٨/ ١٣٤، وكذلك تفسير ابن جرير ٣٠/ ٧٦، وسنن الدارمي (١٥٣)، والمطالب العالية (٣٠٣٠)، وحلية الأولياء ٤/ ١٢، وتهذيب الكمال ١٣/ ٣٦٧، وتاريخ دمشق ٢٢/ ١٥٤، والفقيه والمتفقه ٢/ ٢٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16175
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16175، ترقيم محمد عوامة 15710)