مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في (المرأة والرجل) إذا أهلت بعمرة فخافت باب: کوئی شخص یا عورت عمرہ کے لئے احرام باندھے پھر خدشہ لاحق ہو جائے
حدیث نمبر: 16114
١٦١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن عمرو عن الحسن في رجل أهل بعمرة فجاء والناس وقوف بعرفة فقال: إن علم أنه يدرك مكة أتاها (فحل) (١) من عمرته، وإلا أهل بالحج (وطاف) (٢) طوافين.مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو عمرہ کا احرام باندھے اور جب وہ آئے تو لوگ عرفات میں ٹھہرے ہوں تو اگر اس کو یقین ہو کہ مکہ جاسکتا ہے (یعنی جانے سے حج نہیں نکلے گا) تو اپنے عمرہ سے حلال ہوجائے (یعنی مکہ سے عمرہ مکمل کر کے حلالی بن کر آجائے) ورنہ حج کے لئے تلبیہ پڑھے اور دو طواف کرے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز]: (فحل)، وفي [ط]: (فهل)، وفي [هـ]: (فأهل).
(٢) في [جـ]: (فطاف).