مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من قال: إذا قدم الرجل عشية عرفة ذهب إلى عرفات؟ باب: جب آدمی عرفات کی شام آئے تو وہ عرفات چلا جائے
حدیث نمبر: 16057
١٦٠٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل عن الحسن وعطاء في الرجل يقدم مفردًا فيجد الناس وقوفًا بعرفة، (قال) (١): يقف معهم، فإذا كان ⦗٣١⦘ يوم النحر طاف طوافًا واحدًا وسعى بين الصفا والمروة، فأجزأه طواف القدوم من طواف الزيارة وعليه طواف يوم النفر حين يودع البيت.مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو شخص اکیلا آئے اور وہ لوگوں کو وقوف عرفہ میں پائے تو ان کے ساتھ وہاں وقوف کرے، پھر قربانی کا دن آئے تو ایک طواف کرے اور صفا ومروہ کی سعی کرے اس کے لیے طواف قدوم، طواف زیارت کی طرف سے کافی ہوجائے گا، اور اس پر واپس آتے وقت طواف وداع ہے۔
حواشی
(١) كذا في النسخ.