مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
فيمن ساق هديا واجبا فعطب أيأكل منه؟ باب: جو واجب ھدی کو ہانکے پھر وہ ھدی تھک جائے تو کیا اس کو ذبح کر کے کھا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16039
١٦٠٣٩ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: (حدثنا) (٢) ابن علية عن (أبي) (٣) التياح عن موسى بن سلمة عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ بعث (بثمانى) (٤) عشرة بدنة مع رجل (فأمره) (٥) فيها بأمره فانطلق ثم رجع، فقال له: أرأيت إن ⦗٢٧⦘ (أزحف) (٦) علينا منها (شيء) (٧) قال: "انحرها، ثم اغمس نعلها في دمها واجعلها على صفحتها، ولا تأكل منها أنت ولا أحد من (أهل) (٨) رفقتك" (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھارہ (١٨) اونٹ ایک آدمی کو دے کر روانہ کیا اور اس کے متعلق ہدایات دیں، وہ چلا اور پھر لوٹ کر آیا اور کہا اور عرض کیا کہ اگر ان میں سے کوئی اونٹ راستہ میں تھکن سے چور ہوجائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کو ذبح کر کے اس کے نعل کو خون میں ڈبو دو ، اور پاؤں کو چہرہ کی جانب ڈال دو ، آپ اور آپ کے ساتھی اس میں سے نہ کھائیں (باقی لوگ کھائیں) ۔
حواشی
(١) تكررت في: [ط].
(٢) في [س، ط]: (أخبرنا).
(٣) في [س، ط، هـ]: (ابن).
(٤) في [س، هـ]: (بثمان).
(٥) في [ب]: (وأمره).
(٦) في [جـ، ز]: (حف).
(٧) زيادة في: [جـ، ز].
(٨) سقط من: [هـ].