مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في المنديل بعد الوضوء باب: جن حضرات کے نزدیک رومال سے وضو کا پانی صاف کرنا درست ہے
حدیث نمبر: 1588
١٥٨٨ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال: أرسل أبي مولاة لنا إلي الحسن بن علي، فرأته توضأ وأخذ خرقة بعد الوضوء، فتمسح بها، فكأنها مقتته!، فرأت من (الليل) (١) كأنها تتقيأ (كبدها) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر کہتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک باندی بھیجی اس نے دیکھا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے بعد ایک کپڑے سے پانی خشک کیا۔ ان کا یہ عمل اس باندی کو برا محسوس ہوا تو اس نے رات کو خواب میں دیکھا کہ اس کا جگر اس کے منہ سے باہر آ رہا ہے۔
حواشی
(١) في [د]: (بلل) وفي [هـ]: (البلل).
(٢) في [د، هـ]: (تصاكها).
(٣) مجهول، لإبهام مولاة حكيم، أخرجه عبد الرزاق (٧١٣).