حدیث نمبر: 15824
١٥٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن (فضيل) (٢) عن الأعمش عن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: أتاه رجل فقال: إني أكريت نفسي من قوم (ووضعت) (٣) عنهم من (أجري) (٤) من أجل الحج فهل يجزئ ذلك (عني) (٥) فقال: ابن عباس: هذا من (الذين) (٦) قال اللَّه (تعالى) (٧): ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا ⦗٥١٨⦘ كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ (٨) [البقرة: ٢٠٢].مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں خود کو (خدمت حج) کے لیے کرائے کے طور پر پیش کیا۔ لیکن میں نے حج کی وجہ سے اپنی اجرت چھوڑ دی تو کیا میرا حج ہوگیا۔ تو کیا میری طرف سے (حج) کافی ہوگیا ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ اسی میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : { اُولٰٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَ اللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَاب }۔
حواشی
(١) في [جـ، ز]: (أخبرنا).
(٢) في [ن]: (فضل).
(٣) في [ن]: (وضع).
(٤) في [ف]: (أجرتي).
(٥) في [ب، ن]: (عنهم).
(٦) في [ب، ن]: (الذي).
(٧) في [جـ]: إضافة (تعالى).