مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الرجل يموت ولم يحج أيحج عنه؟ باب: کوئی شخص بغیر حج کیے فوت ہو جائے تو کیا اس کی طرف سے حج کیا جائے گا؟
١٥٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن قدامة بن عبد اللَّه الرؤاسي قال: سألت سعيد بن جبير عن أخ في مات ولم يحج قط أفاحج عنه؟ قال: هل كان ترك من ولد؟ قال: قلت: لا، إلا صبيًا صغيرًا، قال: حج عنه فإنه لو وجد رسولًا لأرسل إليك أن عجل بها قلت: أحج عنه من مالي أو من ماله؟ قال: لا، بل من ماله.حضرت قدامہ بن عبد اللہ الرواسی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا کہ میرے بھائی بنا حج کیے فوت ہوگئے ہیں کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ کیا اس کی کوئی اولاد ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک چھوٹے بچے کے سوا اور کوئی نہیں ہے، آپ نے فرمایا پھر اس کی طرف سے حج کرو، بیشک اگر کوئی قاصد پایا جاتا تو تیری طرف بھیجتا کہ اس کو جلدی ادا کر، میں نے عرض کیا کہ اس کے مال سے حج کروں یا اپنے مال سے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ اس کے مال سے کرو۔ پھر میں نے ابراہیم سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کی طرف سے حج کرو، پھر میں نے حضرت ضحاک سے دریافت کیا ؟ فرمایا اس کی طرف حج کرو بیشک وہ اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا اور اس کے مال سے کرو۔