حدیث نمبر: 15708
١٥٧٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لم يرخص في ترك الصلاة عند المقام فإن لم تقدر عليه زاحمت عليه حتى تقدر عليه ⦗٤٩٠⦘ أو (بحذاه) (١) ولا بأس أن يكون بينك وبينه رجال يصلون بعد أن (تكون) (٢) بحياله.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ مقام ابراہیم پر نماز نہ ادا کرنے کی کوئی رخصت و اجازت نہیں ہے، اگر رش کی وجہ سے اس کے پاس نماز ادا کرنے پر قدرت نہ ہو تو مزاحمت کرو یہاں تک کہ تمہیں جگہ مل جائے یا پھر اس کے برابر میں جگہ مل جائے اور کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ اس کے مقابل ہو اور آپ کے اور اس کے درمیان کئی لوگ موجود ہوں جو نماز پڑھ رہے ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ز]: (تجداه)، وفي [هـ]: (تجده).
(٢) في [ز]: (نكون)، وفي [أ، ن]: (يكون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15708
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15708، ترقيم محمد عوامة 15260)