مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الرجل المقيم بمكة متى يهل؟ باب: جو شخص مکہ مکرمہ میں مقیم ہو وہ حج کے لیے احرام کب سے باندھے گا؟
حدیث نمبر: 15689
١٥٦٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن عطاء قال: قدم ابن عمر فطاف ثم سعى ثم (حل) (١) فمكث أربعًا أو خمسًا، ثم أهل بالحج في العشر، ثم جاء مرة أخرى فأقام حلالًا حتى إذا كان يوم التروية أهل بالحج حين انبعث به بعيره منطلقًا إلى منى (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور طواف کیا اور سعی کی پھر بغیر احرام کے چار، پانچ دن رہے پھر دس سے حج کا احرام باندھا، پھر دوسری بار جب تشریف لائے تو آٹھ ذی الحجہ تک بغیر احرام کے رہے، پھر آٹھ کو حج کا احرام باندھا جب اونٹوں کو منیٰ کی طرف چلاتے ہوئے چھوڑا، حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ یہی میرے نزدیک پسندیدہ ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (رحل)، وفي [أ]: (أحل).