مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الرجل المقيم بمكة متى يهل؟ باب: جو شخص مکہ مکرمہ میں مقیم ہو وہ حج کے لیے احرام کب سے باندھے گا؟
حدیث نمبر: 15686
١٥٦٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطاء قال: قلت لابن عمر: قد (رئي) (١) الهلال فأهل (مكانه) (٢) هلال ذي ⦗٤٨٥⦘ الحجة، فلما كان [في العام المقبل (قيل) (٣) له: قد (رئي) (٤) الهلال -وهو في البيت- فنزع ثوبًا كان عليه ثم أهل، فلما كان] (٥) العام الثالث قيل له: قد (رئي) (٦) الهلال فقال: ما أنا إلا رجل من أصحابي أصنع كما يصنعون، فأقام (حلالًا) (٧) حتى كان يوم التروية (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ چاند نظر آگیا ہے، آپ نے اپنی جگہ سے احرام باندھ لیا، پھر جب آئندہ سال آیا تو میں نے عرض کیا کہ چاند نظر آگیا ہے، اس وقت آپ بیت اللہ میں تھے آپ نے اپنے کپڑے اتارے پھر احرام باندھ لیا، پھر جب تیسرا سال آیا تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ چاند دیکھ نظر آگیا ہے، آپ نے فرمایا : بیشک میں صحابہ میں سے ہوں، میں وہی کرتا ہوں جو وہ کرتے تھے، پھر آپ بغیر احرام کے ہی رہے یہاں تک کہ آٹھ ذی الحجہ ہوگئی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ن]: (رأى).
(٢) في [ن]: (بمكانه).
(٣) في [أ، ب، ن]: (فقيل).
(٤) في [أ، ب، ن]: (رأى).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٦) في [أ، ب، ن]: (رأى).
(٧) في [ن]: (حلال).