١٥٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن يعلى بن أمية قال: لما أن حج عمر استلم الركن وكان يعلى بن أمية يستلم الأركان كلها، فقال له عمر: يا يعلى ما تفعل؟ قال: استلمها كلها؛ لأنه ليس شيء من البيت يهجر، قال: فقال عمر: أما (رأيت) (١) رسول اللَّه ﷺ لم يستلم منها إلا الحجر قال: بلى، قال: (فمالك به أسوة) (٢) قال: بلى (٣).حضرت عطاء سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر نے حج کیا تو حجر اسود کا استلام کیا، اور حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن امیہ نے تمام ارکان کا استلام کیا، حضرت عمر نے ان سے فرمایا : اے یعلی رضی اللہ عنہ ! یہ آپ نے کیا کیا ؟ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے تمام ارکان کا استلام کیا ہے کیونکہ خانہ کعبہ کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کو (بغیر استلام کے) چھوڑا جائے، حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف حجر اسود کا استلام کیا تھا ؟ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں نہیں، حضرت عمر نے فرمایا کہ تو کیا آپ کے لیے اس میں نمونہ نہیں ہے ؟ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں نہیں۔