حدیث نمبر: 15391
١٥٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هلال بن (خباب) (١) عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي ﷺ دخل على ضباعة فقال لها: "ما تريدين الحج العام؟ "، قالت: يا رسول اللَّه إني (معتلة) (٢)، قال: "حجي واشترطي"، قالت: كيف أقول؟ قال: "قولي لبيك اللهم لبيك محلي من الأرض حيث حبستني" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے فرمایا کہ کیا تو اس سال حج کرنا چاہتی ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں بیمار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو حج کر اور احرام باندھتے وقت شرط لگا لے، انھوں نے عرض کیا کہ میں کیا کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہہ : اے اللہ ! میں حاضر ہوں میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں سے تو مجھے محبوس (روک) کر دے۔

حواشی
(١) في [ن]: (حباب).
(٢) في [أ، جـ، س، ز]: (عليلة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15391
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢٥٨)، وأحمد (٣١١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15391، ترقيم محمد عوامة 14967)