حدیث نمبر: 15377
١٥٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان الأسود تعادله راحلته فإذا أتى (جبانة عرزم) (١) (٢) وإذا أراد أن يركب قال: اللهم حجة إن تيسرت، وإلا عمرة إن تيسرت ثم يلبي بالحج.مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود ان کی سواری کو لے جایا جا رہا تھا (چونکہ وہ بیمار تھے اس لیے خود نہیں لے جاسکتے تھے) جب وہ مقام جبانہ عرزم (کوفہ) پر پہنچے اور سواری پر سوار ہونے کا ارادہ کیا تو یوں دعا مانگی، اے اللہ ! میں حج کا ارادہ کرتا ہوں اگر تو اس کو میرے لیے آسان کر دے وگرنہ عمرہ کا اگر تو اس کو میرے لیے آسان کر دے، پھر آپ نے حج کے لیے تلبیہ پڑھا۔
حواشی
(١) في [ص، ف، ن]: (جناية نحر دمًا)، وجبانة عرزم مكان بالكوفة كان الأسود يحرم منه، انظر: الطبقات الكبرى ٦/ ٧٢، والأنساب ٤/ ١٧٨.
(٢) في [أ، ن]: زيادة (إذا).