مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في المرأة تحرم في الحج بغير إذن زوجها باب: عورت اگر خاوند کی اجازت کے بغیر حج کا احرام باندھ لے
١٥٣٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد العزيز العمي قال: سئل (مطر) (١) وأنا أسمع عن امرأة استأذنت زوجها في الحج فلم يأذن لها، فاستأذنته أن تزور فأذن لها، فضمت عليها ثيابًا لها بيضًا (فصرخت) (٢) بالحج قال: فأتوا الحسن فسألوه، فقال ⦗٤١٨⦘ الحسن: (اللكعة) (٣) ليس لها ذاك.حضرت مطر سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے اپنے شوہر سے حج کی اجازت مانگی لیکن شوہر نے اس کو اجازت نہ دی، پھر اس نے خاوند سے بیت اللہ کی زیارت کی اجازت مانگی تو شوہر نے اجازت دے دی، پھر اس خاتون نے اس پر سفید کپڑوں کو ملا لیا اور حج کے لیے فریاد تلبیہ (آواز) کرنے لگی، لوگ حسن کے پاس آئے اور آپ سے دریافت کیا ؟ حسن نے ارشاد فرمایا : احمقو ! اس کو یہ جائز ہے، حضرت مطر فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ سے دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خاتون محرمہ (شمار ہوگی) ہے، حضرت مطرئ فرماتے ہیں کہ پھر میں مکہ مکرمہ گیا اور میں نے حضرت حکم بن عتیبہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خاتون محرمہ ہے، حضرت مطرئ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ایک شخص کے ذمہ لگایا کہ حضرت عطاء بن ابی رباح سے پوچھے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ! آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ہے اس پر یہ نہیں ہے۔