حدیث نمبر: 15334
١٥٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا داود بن أبي ⦗٤٠٤⦘ هند عن محمد بن (أبي) (١) موسى في قوله (تعالى) (٢): ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ [الحج: ٣٢]، (٣) قال: الوقوف بعرفة من شعائر اللَّه، (ويحمع) (٤) من شعائر اللَّه، والجمار من شعائر اللَّه، والبدن من شعائر اللَّه، والحلق من شعائر اللَّه، فمن يعظمها فإنها من تقوى القلوب قال: في قوله (٥): ﴿لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى﴾، [(قال: لكم في كل مشعر منافع) (٦) إلى أجل مسمى قال: لكم في (كل) (٧) مشعر منافع إلى] (٨) أن تخرجوا منه إلى غيره، فالأجل المسمى الخروج منه إلى غيره، ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [الحج: ٣٣]، قال: محل هذه الشعائر كلها الطواف بالبيت.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن ابو موسیٰ قرآن پاک کی آیت { وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب } کے متعلق فرماتے ہیں کہ وقوف عرفہ شعائر اللہ میں سے ہے، مزدلفہ شعائر اللہ میں سے ہے، جمرات کی رمی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے، اونٹ کی قربانی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے اور حلق کروانا شعائر اللہ میں سے ہے، پس جو ان شعائر کی تعظیم کرے گا یہ اس کے دل کے تقویٰ کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے } کے متعلق فرماتے ہیں کہ مناسک حج میں منافع ہیں یہاں تک کہ اس سے دوسرے کی طرف نکلا جائے، قرآن پاک میں جو اجل مسمی کا تذکرہ اس سے مراد دوسرے مشعر کے طرف جانے تک کا وقت ہے۔ { ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَے الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ } ان تمام شعائر مقام و مرکز بیت اللہ کا طواف ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [ن].
(٢) في [جـ، ص]: زيادة.
(٣) في [أ، ب]: زيادة (حدثنا أبو بكر).
(٤) في [ن]: (والجمع)
(٥) في [جـ، ص]: زيادة.
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) سقطت (كل) من: [أ، ب].
(٨) زيادة في [أ، ب، ز]، وفي [جـ]: زيادة (إلى) فقط، وسقط من: [خ، ص، ن]، وفي [جـ]: (إلى) فقط.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15334
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15334، ترقيم محمد عوامة 14922)