حدیث نمبر: 15327
١٥٣٢٧ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن محارب (عن) (٢) ابن (٣) بريدة: وردنا المدينة (فأتينا) (٤) عبد اللَّه بن عمر فقال: كنا عند رسول اللَّه ﷺ فأتاه رجل جيد الثياب طيب الريح حسن الوجه فقال: السلام عليك يا ⦗٣٩٩⦘ رسول اللَّه، (قال) (٥): "وعليك"، فقال: يا رسول اللَّه (أدنو) (٦) منك؟ (قال) (٧): "أدن" (٨)، (فدنا دنوة) (٩)، فقلنا: ما رأينا كاليوم قط رجلًا أحسن ثوبًا ولا أطيب ريحًا ولا أحسن وجهًا ولا أشد توقيرًا لرسول اللَّه ﷺ، ثم قال: يا رسول اللَّه أدنو منك؟ قال: "نعم"، فدنا دنوه، فقلنا مثل مقالتنا، ثم قال له الثالثة: أدنو منك يا رسول اللَّه؟ قال: "نَعَمٌ"، حتى ألزق ركبتيه بركبة رسول اللَّه ﷺ، [(فقال) (١٠): يا رسول اللَّه ما الإسلام؟ قال رسول اللَّه ﷺ] (١١): "تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت وتغتسل من الجنابة"، قال: صدقت، فقلنا: ما رأينا كاليوم رجلًا، واللَّه لكأنه يعلم رسول اللَّه ﷺ (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منورہ آئے تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے اور پھر فرمایا : ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عمدہ لباس، اچھی خوشبو اور خوبصورت شکل والا ایک شخص آیا اور عرض کیا : السلام علیک یا رسول اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ارشاد فرمایا وعلیک، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آ جاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قریب ہو جاؤ، پس وہ تھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوگیا، ہم نے کہا (دل میں) کہ ہم نے آج کے دن کی طرح نہیں دیکھا کوئی شخص عمدہ کپڑوں میں، اور نہ ہی اچھی خوشبو اور خوبصورت چہرے والا اور نہ ہی اس سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توقیر کرنے والا، پھر اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آ جاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں پس وہ تھوڑا سا قریب آگیا، ہم نے پھر اسی طرح سوچا، پھر اس نے تیسری مرتبہ عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ کے قریب ہو جاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اتنا قریب ہوگیا کہ اس کے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک گھٹنوں کے ساتھ مل گئے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، حج کرنا غسل جنابت کرنا، اس نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا، ہم نے کہا اللہ کی قسم ہم لوگوں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعلیم دے رہا ہے (یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو تعلیم دے رہے ہیں) ۔

حواشی
(١) تكرر في: [ن].
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [جـ، ص]: زيادة (أبي).
(٤) في [ن]: (أتيت).
(٥) في [جـ، ص]: (فقال).
(٦) في [جـ]: (أدن).
(٧) في [جـ]: (فقال).
(٨) في [أ، ب، جـ]: (أدنه)، وفي [ص]: (أدنك).
(٩) سقط من: [ب، ص، ن].
(١٠) في [أ، ب، جـ، ص، ز]: (قال).
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [ن].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15327
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه اللالكائي ٤/ ٥٨٨، وابن نصر في تعظيم قدر الصلاة (٣٧٠)، وبنحو أحمد (٥٨٥٦)؛ وأصله في صحيح مسلم (٨)، من حديث عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15327، ترقيم محمد عوامة 14915)