حدیث نمبر: 15295
١٥٢٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال: خرج معاوية ليلة النفر فسمع صوت تلبية فقال: من هذا؟ قالوا: عائشة اعتمرت من التنعيم (فذكر) (١) ذلك لعائشة (فقالت) (٢): لو سألني لأخبرته (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ یوم النفر کی رات حضرت معاویہ نکلے تو آپ نے تلبیہ پڑھنے کی آواز سنی، آپ نے پوچھا کہ یہ کون پڑھ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پڑھ رہی ہیں جو مقام تنعیم سے عمرہ کر رہی ہیں، (بعد میں) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس واقعہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا اگر و ہ مجھ سے دریافت کرتے تو میں (بلند آواز) سے پڑھنے کی وجہ بتلا دیتی۔

حواشی
(١) في [ف]: (فذكرت).
(٢) في [جـ]: (قالت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15295
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15295، ترقيم محمد عوامة 14885)