حدیث نمبر: 15287
١٥٢٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن سليمان بن يعقوب عن أبيه قال: مات رجل من الحي وأوصى أن ينحر عنه بدنة (فسألت) (١) ابن عباس عن البقرة فقال: تجزئ، قال (٢): من أي قوم أنت؟ قال: قلت: من بني رباح قال: وأني لبني رباح البقر؟ إنما البقر للأزد وعبد القيس (٣).مولانا محمد اویس سرور
یعقوب سے مروی ہے کہ میرے محلہ کا ایک شخص فوت ہوا اور اس نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے بدنہ کی قربانی کی جائے، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ گائے ذبح کی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کافی ہوجائے گی، آپ نے پوچھا کہ تو کون سی قوم میں سے ہے ؟ میں نے عرض کیا بنو رباح سے، آپ نے فرمایا بنو رباح کے پاس گائے کہاں سے آگئی ؟ گائے تو ازد اور قبیلہ عبد قیس کے پاس ہوتی ہیں۔
حواشی
(١) في [ن، ف]: (فسألنا).
(٢) في [أ، جـ، ص، ز، ب]: زيادة (قلت).
(٣) مجهول؛ لجهالة سليمان بن يعقوب وأبيه، وانظر: المنفردات والوحدان للنسائي ١/ ٢٤٨، والمعرفة والتاريخ ٣/ ١٢٧، والدر المنثور ٦/ ٥٠، والزاهر في الغريب ١/ ٢٧١ وروح المعاني ١٧/ ١٥٥.