١٥٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عكرمة ابن خالد عن رجل من آل (الوداع) (١) قال: استسقى النبي ﷺ وهو يطوف بالبيت، فقال رجل: ألا نسقيك من شراب نصنعه فأتاه بإناء فيه نبيذ زبيب فقال: "ألا أكفيت عليه إناء أو عرضت عليه عودًا"، ثم شرب منه فقطب، ثم دعا بماء فصبه فيه فشرب وسقى أصحابه (٢).حضرت عکرمہ بن خالد آل وداع کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کے دوران پانی طلب کیا، ایک شخص نے عرض کیا : کیا میں آپ کو اپنا بنایا ہوا مشروب نہ پلاؤں ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا جس میں کشمش کا نبیذ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ کیا تو نے اس پر کوئی برتن الٹایا تھا یا اس پر کوئی لکڑی رکھی ہوئی تھی ؟ (یہ اس لئے کہا ہوگا کہ شاید اس برتن میں نشانات بنے ہوئے تھے جو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر بھی ظاہر ہوئے پینے کے بعد) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے نوش فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماتھے پر شکن پڑگئے، پھر پانی منگوایا گیا اور وہ اس میں ڈالا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور اپنے صحابہ کو بھی پلایا۔