حدیث نمبر: 15146
١٥١٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن (حميد) (١) (عن عطاء) (٢) عن عمار بن أبي عمار مولى بني هاشم قال: (جاءت) (٣) امرأة (إلى) (٤) ابن عباس فقالت: تطوف المستحاضة بالبيت؛ (قال) (٥): تقعد أيام (إقرائها) (٦) ثم ⦗٣٥٨⦘ تغتسل وتطوف بالبيت، قال: فقالت: هل تدخل الكعبة؟ قال: فقال: استدخلي واستذفري وادخلي (٧).
مولانا محمد اویس سرور

ایک عورت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مستحاضہ عورت بیت اللہ کا طواف کرسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اپنے (مقررہ دن عبادت کے مطابق) بیٹھی رہے، پھر غسل کر کے طواف کرے، اس نے عرض کیا کہ کیا مستحاضہ کعبہ میں داخل ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی کپڑا وغیرہ باندھ لے پھر داخل ہوجا۔

حواشی
(١) في [أ، ن]: (حبيب).
(٢) سقط في: [ز].
(٣) سقط من: [ن]، وفي [ف]: (سألت).
(٤) في [جـ، خ، ص، ز]: زيادة (إلى).
(٥) في [ص، ز]: (فقال).
(٦) في [أ]: (اقراؤها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15146
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15146، ترقيم محمد عوامة 14746)