مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من قال: ليس على الصفا والمروة دعاء موقت باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ صفا ومروہ پر کوئی مخصوص دعا نہیں ہے
١٥١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن جابر أن النبي ﷺ بدأ بالصفا فرقى ووحد اللَّه وكبره وقال: "لا إله الا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا اللَّه (وحده) (١) أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده". ثم دعا بين ذلك، ⦗٣٥١⦘ (قال مثل ذلك) (٢) ثلاث مرات، ثم نزل (إلى) (٣) المروة حتى (انصبت قدماه) (٤) إلى بطن الوادي حتى إذا (صعدنا) (٥) مشى حتى (٦) أتى المروة، ففعل على المروة كما فعل على الصفا (٧).حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا سے ابتدا کی اور اس پر چڑھے اور ان الفاظ سے اللہ کی توحید وکبریائی بیان فرمائی : اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی اور اس ہی کی تمام تعریف ہے اور وہ ہر شی پر قادر ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تن تنہا گروہوں کو شکست دی۔ پھر ان کے درمیان دعا فرمائی، اسی طرح تین بار کیا پھر مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ ہمارے قدم بطن وادی میں پانی کی طرح بہنے لگے، یہاں تک کہ ہم چلتے ہوئے مروہ پر آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مروہ پر بھی وہی کیا جو صفا پر کیا تھا۔